--ہم نے سفر پر جانا ہو تو منزل کا فیصلہ پہلے کرتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ زیادہ آدمی کس سمت میں جا رہے ہیں .....کیونکہ ہماری منزل طے ہے .

--ہم اگر اسلام آباد کی گاڑی میں بیٹھے ہیں تو ہمیں نہیں پتہ کہ سب اسلام آباد ہی جا رہے ہیں ، یا کوئی غلطی سے اس گاڑی میں بیٹھا ہے یا کسی کو سفر کی کیا مجبوری ہے ...ہمیں صرف یہ پتہ ہے کہ ہم کس کام سے جا رہے ہیں .
--ہم نے بچوں کی شادی کرنی ہو تو ایک تاریخ (ڈیڈ لائن ) رکھ دیتے ہیں ، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون کب شادی کر رہا ہے کیونکہ شادی ہماری ہے .
--ہم نے بیٹی کے لیے لڑکا ڈھونڈنا ہے .ہمیں اس چیز سے کوئی لگاو نہیں کہ لوگوں کے داماد کیسے ہیں اور کیا کرتے ہیں ..ہمیں صرف اپنی بیٹی کا مستقبل دیکھنا ہے .


لیکن .....
لیکن .....
لیکن .....


--ہم زندگی کے سفر میں منزل طے ہی نہیں کرتے اور جو سمت ملے اس پر نکل جاتے ہیں
--ہم انجنیئر/ڈاکٹر کی گاڑی پر بیٹھتے تو ہیں لیکن ہر ایک سے پوچھتے ہیں کہ تم کیوں یہاں جا رہے ہو ، اس طرف کیوں نہیں گئے .
--ہماری زندگی میں ڈیڈ لائن نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ...ہم جہاں رک جاتے ہیں وہی ہماری ڈیڈ لائن ہوتی ہے .
--ہم اپنے متقبل کے فیصلے ان لوگوں سے پوچھتے ہیں جن کا ظاہری ٹھاٹھ باٹھ بہترین ہوتاہے . ہمیں اس چیز سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ہم کیا کر سکتے ہیں ..بلکہ ہم کسی کو دیکھ فورا یہ راۓ قائم کر لیتے ہیں کہ اس نے کر لیا تو ہم بھی کر سکتے ہیں ..یہ جانے بغیر کہ وہ کن عادات کا مالک ہے اور ہم کیسے ہیں .



تحریر :کاشف شہزاد 


Comments