----------------------استاد ، شاگرد اور ہمارا تعلیمی نظام ----------------------
اگر دیکھا جاے تو زمین پر ہمارے تین باپ ہوتے ہیں . ایک جو ہمیں اس دنیا میں لانے کی وجہ بنتا ہے دوسرا جو ہمیں اس دنیا میں جینا سکھاتا ہے اور تیسرا جو اپنے جگر کا ٹکڑا ہمارے حوالے اس امید پر کرتا ہے کہ پچھلے دونوں والدین سے ہم نے اتنا کچھ سیکھ لیا ہے کہ اسکی لحت جگر کی ہر تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھیں گے . باپ وہ شحص ہے جو ہمیں آسمان سے زمین پر لانے کا سبب بنتا ہے اور استاد وہ ہستی ہے جو ہمیں زمین سے آسمان تک اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے .اگر ہم سولہ برس پر محیط تعلیمی دور پر نظر دوڑائیں تو شاید سو سے زیادہ استاد گزرے ہونگے انمیں سے دس سے پندرہ ایسے استاد ہونگے جنکے ہمیں نام بھی یاد ہیں وہ بھی اس وجہ سے کہ وہ اپنے مضمون میں بہت زیادہ ماہر تھے یا انکا احلاق بہت اچھا تھا لیکن اگر ہم یہ دیکھیں کہ کتنے استاد تھے جنہوں نے حقیقی معنوں میں ہماری زندگی کو متاثر کیا تو وہ شاید یا بمشکل ایک ہوگایا ہو گا ہی نہیں . حضور والا آپ ہمارے تعلیمی میعار کا اندازہ لگائیں کہ ہم جس جنریشن کو پاس آوٹ کرتے ہیں اسکے پاس ایک بھی استاد ایسا نہیں ہوتا جو اسکی زندگی پر ا ثر انداز ہو .
اگر دیکھا جاے تو زمین پر ہمارے تین باپ ہوتے ہیں . ایک جو ہمیں اس دنیا میں لانے کی وجہ بنتا ہے دوسرا جو ہمیں اس دنیا میں جینا سکھاتا ہے اور تیسرا جو اپنے جگر کا ٹکڑا ہمارے حوالے اس امید پر کرتا ہے کہ پچھلے دونوں والدین سے ہم نے اتنا کچھ سیکھ لیا ہے کہ اسکی لحت جگر کی ہر تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھیں گے . باپ وہ شحص ہے جو ہمیں آسمان سے زمین پر لانے کا سبب بنتا ہے اور استاد وہ ہستی ہے جو ہمیں زمین سے آسمان تک اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے .اگر ہم سولہ برس پر محیط تعلیمی دور پر نظر دوڑائیں تو شاید سو سے زیادہ استاد گزرے ہونگے انمیں سے دس سے پندرہ ایسے استاد ہونگے جنکے ہمیں نام بھی یاد ہیں وہ بھی اس وجہ سے کہ وہ اپنے مضمون میں بہت زیادہ ماہر تھے یا انکا احلاق بہت اچھا تھا لیکن اگر ہم یہ دیکھیں کہ کتنے استاد تھے جنہوں نے حقیقی معنوں میں ہماری زندگی کو متاثر کیا تو وہ شاید یا بمشکل ایک ہوگایا ہو گا ہی نہیں . حضور والا آپ ہمارے تعلیمی میعار کا اندازہ لگائیں کہ ہم جس جنریشن کو پاس آوٹ کرتے ہیں اسکے پاس ایک بھی استاد ایسا نہیں ہوتا جو اسکی زندگی پر ا ثر انداز ہو .
کول کی سطح پر جو اساتذہ ہیں وہ خود اتنے مسایل میں گرے ہوے ہوتے ہیں کہ وہ طلبا کو اخلاقی درس دینے سے آری ہوتے ہیں اور وہ اس امید پر نمبر لیتے ہیں کہ اچھے کالج میں داخلہ مل جاے گا . اور استاد بھی طالبعلموں کی طرح چھٹی کی گھنٹی کا انتظار کرتے رہتے ہیں . کالج میں استادوں کا میعاراسکول سے بہت بہتر ہوتا ہے لیکن وہ بھی اب تیار شدہ گائیڈز اور نوٹس اور اکیڈمی کی بنیاد پر تیاری کرواتے ہیں تاکے امتحان آسانی سے پاس ہو جاے اور طلبا کو کسی مشہور یونیورسٹی میں داخلہ مل جاے .اب ہوںا تو یہ چاہئیے کہ یہ چار سال طلبا کی بنیاد اتنی اچھی بنایں کہ ہائر ایجوکیشن کی پڑھائی کے طریقہ کو سمجھنے میں آسانی ہو لیکن افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ یہ چار سال صرف پپرز ، نمبرز اور اچھی یونیورسٹی میں جانے کے خواب کے سر پر گزر جاتے ہیں .کوئی استاد یا راہبر انھیں یہ نہیں بتاتا کہ آپ کا شوق کیا ہے ، آپ کا انٹرسٹ کون سے مضامین میں ہے . آپ کو ہائر ایجوکیشن کن مضامین میں کرنی چاہئیے وغیرہ وغیرہ . دریافت کرنا تو دور کی بات ہے یہاں کوئی یہ بتانے والا نہیں ہوتا کہ آپ نے اگر پری انجینرنگ /پری میڈیکل رکھنا ہے تو کیوں رکھنا ہے ؟ بلکہ ظلم تو یہ ہے کہ جس کے نمبرز کم آتے ہیں وہ یہ یقین کر لیتا ہے یا اسے یہ یقین دلاد یا جاتا ہے کہ تم نالائق ہو اور انجینرنگ اور میڈیکل کے لیے نا اہل ہو چنانچے وہ اس صورتحال کو ذہنی طور پر قبول کر کے آرٹس پڑھنا شروع کر دیتا ہے اور ساری زندگی یہی سمجھتا رہتا ہے کہ اسکے اندر کوئی ایسی خوبی ہی نہیں کہ وہ انجینرنگ /میڈیکل کے طلبا کے مقابل ہو سکتا ہے .انھیں کیا پتا کے جو انجینرنگ اور میڈیکل والے ہیں وہ بھی نوٹس اور گائیڈز پڑھ کر نمبر لیتے ہیں ہاں البتہ انکے یاد کرنے کی صلاحیت شاید تھوڑی بہتر ہو . اعتماد انھیں بھی دینے والا کوئی نہیں ہوتا صرف وہ نمبرز ہوتے ہیں جو انھیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ باقی طلبا سے بہتر ہیں .
اب آ جاتے ہیں ہم یونیورسٹی میں . کالج سے فارغ ہو کر طلبا کے ذھن میں ملک کی معروف یونیورسٹیز کے خواب ہوتے ہیں . انٹری ٹیسٹ اور اس کا کرائی ٹیریاوہ پہلا سپیڈ بریکر ہوتا ہے جو طلبا کو اس خواب سے جھنجھوڑتا ہے اسکے لیے مختلف ادارے بھی وجود میں آ چکے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ٹیسٹ کی ایسی تیاری کرواتے ہیں کہ آپکا داخلہ ملک کی اچھی یونیورسٹیز میں ہو جاے گا . طلبا بے چارے اس جال میں آسانی سے پھنس جاتے ہیں .چار و ناچار خوب دل لگا کر رٹا لگاتے ہیں اور ٹیسٹ دے کر پھر انتظار کی سولی پر لٹک جاتے ہیں . جو لوگ ٹیسٹ میں کامیاب نہیں ہوتے وہ بھی ذہنی طور پر یہ مان لیتے ہیں کہ وہ اتنے زہین نہیں ہیں اسلئے کسی عام سے کالج میں آرٹس یا کامرس کی تعلیم لینا شروع کر دیتے ہیں بغیر یہ سوچے کہ آگے کیا فائدہ ہو گا اسکا اور جو لوگ یونیورسٹیز میں پہنچ جاتے ہیں وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اب ہم محفوظ ہو گئے ہیں اور یونیورسٹی میں پڑھیں یا نہ پڑھیں جاب ضرور مل جاے گی . اسی یقین پر وہ یونیورسٹیز میں کھل کر عیاشی کرتے ہیں ، کلاسز بنک کرتے ہیں ، دوستیاں بناتے ہیں،اسائنمنٹس کاپی کرتے ہیں ، ٹرم پروجیکٹس کے چھاپے لگاتے ہیں اور چار سال گزر جاتے ہیں. دوسری طرف ایک طبقہ تھیٹو ں کا ہوتا ہے جو کلاس سے فارغ ہوتے ہی لائبریری کا رخ کرتے ہیں اور ہر وقت پڑھتے رہتے ہیں حتیٰ کہ انکے نوٹس سے لڑکیوں کے ساتھ ساتھ نان تھیٹے بھی استفادہ کرتے ہیں . معزرت کے ساتھ کسی ڈیپارٹمنٹ کا کوئی استاد یہ گوارا ہی نہیں کرتا کہ بچوں کو پریکٹیکل فیلڈ کے بارے میں کوئی رہنمائی دے . ہر استاد صرف اپنے مضمون کا ذمے دار ہے بھلے وہ پی ایچ ڈی ہے یا گولڈ مڈل پروفیسر ہے .اکثر دیکھا گیا ہے کہ جتنے پی ایچ ڈی پروفیسرز ہیں وہ صرف کلاس میں آ کر لیکچر دیتے ہیں اور چلے جاتے ہیں سمجھنا طالب علم کی ذمہ داری ہے . کوئی استاد ٹیم ورکنگ یا ٹیم لیڈنگ پر توجہ نہیں دیتا . کسی کو یہ فکر نہیں کہ پروجیکٹ ایک بندے نے بنایا ہے یا اس میں سارے گروپ کی کوشش شامل ہے .
حضور والا میرا مقصد قطعا کسی استاد پر یا طلبا کے کسی بھی طبقہ پر تنقید کرنا نہیں . یونیورسٹی میں اچھے استاد بھی ہوتے ہیں اور اچھے طلبا بھی ہوتے ہیں یہ وہ جگہ ہے جہاں سے نسلیں پڑھ کر نکلتی ہیں .یہی وہ جگہ ہے جہاں سے لیڈرز اور انٹلیکچوئل نکلتے ہیں . میں تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس اتنے ادارے اور اتنے اساتذہ ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں طلبا وہاں پڑھتے ہیں پھر ہم بے روزگاری اور بے شعوری کا راگ کیوں الاپتے ہیں یا ہمارا گریجویٹ مارکیٹ میں دھکے کیوں کھاتا ہے ؟
١) کیا کالج کی سطح پر کوئی ایسا نظام/گائیڈ نہیں ہونا چاہئیے جو بچوں کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد کرے کہ کس فیلڈ میں انٹر کرنا چاہئیے ؟
٢) کیا کالج کے بعدطلبا کو یونیورسٹی کا انتحاب اور فیلڈ کا انتحاب والدین کی مرضی سے اور دوستوں کو دیکھ کر کرنا چاہئیے ؟
٣) ہمارے کالج اور یونیورسٹیز کیوں ایسے استاد /رہبر پیدا نہیں کر پاتیں جو طلبا کو اپنے بچوں کی طرح گائیڈ کریں ؟
٤) کیا کالج اور یونیورسٹیز سے پڑھ کر بھی طلبا کو احلاقی تربیت کے لیے کسی ادارے میں داخلہ لینے کی ضرورت پڑنی چاہئیے ؟
٥) لاکھوں کی تعداد میں گریجویٹس بے روزگار ہیں اور کمپنیز کو ہائر کرنے کے لیے گریجویٹس نہیں ملتے کیوں ؟ اس فرق کا ذمہ دار کون ہے ؟
٢) کیا کالج کے بعدطلبا کو یونیورسٹی کا انتحاب اور فیلڈ کا انتحاب والدین کی مرضی سے اور دوستوں کو دیکھ کر کرنا چاہئیے ؟
٣) ہمارے کالج اور یونیورسٹیز کیوں ایسے استاد /رہبر پیدا نہیں کر پاتیں جو طلبا کو اپنے بچوں کی طرح گائیڈ کریں ؟
٤) کیا کالج اور یونیورسٹیز سے پڑھ کر بھی طلبا کو احلاقی تربیت کے لیے کسی ادارے میں داخلہ لینے کی ضرورت پڑنی چاہئیے ؟
٥) لاکھوں کی تعداد میں گریجویٹس بے روزگار ہیں اور کمپنیز کو ہائر کرنے کے لیے گریجویٹس نہیں ملتے کیوں ؟ اس فرق کا ذمہ دار کون ہے ؟
خدا کی قسم لکھنے بیٹھوں تو قلم نہیں رکتا . اپنی تحریر کو یہاں اس امید کے ساتھ حتم کرنا چاہوں گا کہ خدارا کالجز اور یونیورسٹیز میں ایک ڈیپارٹمنٹ ہی ایسا بنا دیں جو صرف طلبا کو مخلص مشورہ دے اور انکو زندگی ،کامیابی ،خوشی،سکون ،دولت اور رشتوں کا مطلب سمجھاے . انھیں بتاے کہ زندگی میں کامیابی صرف دولت کمانا ہی نہیں ہے بلکے اور بھی بہت سی چیزیں ہے جن پر کام کیا جا سکتا ہے .انھیں بتاے کہ تعلیم صرف نوکری حاصل کرنے کے لیے نہیں حاصل کی جاتی بلکہ نوکریاں دینے کے لیے بھی حاصل کی جا سکتی ہے . انھیں یہ بتاے کہ نوکری کو پیسوں میں تولنے کی بجاے اپنے ہنر کو پالش کرنے پر توجہ دینی چاہئیے اور جب ہنر پالش ہو جاے گا تو پھر پیسے کی ڈیمانڈ کی جا سکتی ہے .انھیں یہ بتاے کہ کامیابی نوکری یا کاروبار میں نہیں ہے کامیابی محنت سے آتی ہے . انھیں یہ باور کرواے کہ ٹیلنٹ فیلڈ میں نہیں بلکہ بندے میں ہوتا ہے .
الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دینی اور دنیاوی دونوں علوم حاصل کرنے کی توفیق دے اور ہر کام میں دوسروں کے لیے بھی آسانیاں پیدا کریں . آمین
الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دینی اور دنیاوی دونوں علوم حاصل کرنے کی توفیق دے اور ہر کام میں دوسروں کے لیے بھی آسانیاں پیدا کریں . آمین

Koong Slot Online - Hari Kokondrashin
ReplyDeleteKoong slot · Slot Online Terpercaya | Koong 카지노 사이트 casino online sekarang kirill-kondrashin juga juga menghadirkan berbagai juga.